ماں عظیم ہستی

”مدرز ڈے“یا ”ماؤں کا عالمی دِن“منانا ہر ثقاقت، فرقہ، مذہب، رنگ و نسل کے لوگوں میں عام ہے۔ یہ دِن ایسا دِن ہے جسے دُنیا کی تمام قومیں مناتی ہیں۔ چونکہ ماں ایک ایسی شخصیت ہے،جسے بچے سے لیکر بوڑھے تک سلامِ عقیدت اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہمیں پڑھنے، سننے اور دیکھنے کو دُنیا میں بہت ساری عظیم ہستیاں نظر آتی ہیں جو اپنی جگہ اپنا مقام رکھتی ہیں۔ اپنی عزت و احترام کروانا بخوبی جانتی ہیں لیکن ماں اِن سب کی سرتاج ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کا درجہ سب سے بلند ہے۔ اگر ماں جیسی عظیم ہستی نہ ہوتی تو زمین پر کسی انسان کا وجود نہ ہوتا۔ماں ایک ایسی ہستی ہے جو انسان کو دُنیا میں لانے کا سبب بنتی ہے۔ جب خدا نے انسان کو مٹی سے بنایاتو اُس نے اِنسان کو بنانے کے بعد محسوس کیا کہ اِس کا کوئی مدد گار بھی ہونا چاہیے۔توخدا نے آدم کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اُس سے عورت کو بنایا۔
ٓآج یہی عورت بہن کے روپ میں بھائیوں کی ہمدرد، بیوی کے روپ میں خاوند کی مددگار اور ایک ماں کے روپ میں اپنے بچوں کی محافظ ہے۔ ہرمرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کاہاتھ ہوتاہے۔ چاہے وہ بہن کے روپ میں ہو، اچھی دوست کے روپ میں ہو،اچھی بیوی یا ماں کے روپ میں ہو۔ بنائے عالم سے ہی خدا نے ماں کو عظیم مرتبہ عطا کیا ہے۔ماں انبیاء کی ہو یا رسولوں کی، ماں امیر کی ہو یا غریب کی، ماں کالے کی ہو یا گورے کی لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے۔بچے کی سب سے پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے اِسی درسگاہ سے بچہ سب سے پہلے ماں کہنا سیکھتا ہے۔
ایک نوجوان لڑکی کو ماں بننے کے لئے نوماہ کا عرصہ لگتا ہے۔یہ عرصہ بڑا تکلیف دہ اور درد نا ک ہوتا ہے۔ ایک دوشیزہ نو ماہ تک بڑے کرب ناک عمل میں سے گزرتی ہے اور نو ماہ مکمل ہونے پر ایک ننھی منھی جان کو دردِ زہ کی حالت میں جنم دیتی ہے۔ اِن تمام تر اذیتوں کو برداشت کرنے کے بعد ایک دوشیزہ ماں کا روپ دھارتی ہے۔ جیسے ہی وہ بچہ جنتی ہے ویسے ہی اُ س کا غم خوشی و شادمانی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔دنیا بھر کی خوشیا ں اِ س بچے کے روپ میں اُس کے آنچل میں آجاتی ہیں۔چونکہ وہ ایک ننھی جان کو اِس دنیا میں لانے کا سبب بنتی ہے اور جب یہی بچہ سب سے پہلے اپنے کومل لبوں سے ماں بولتا ہے تو ماں ایک دَم خوشی سے نہال ہو جاتی ہے کہ آج اُس کے فرشتہ ء صفت بچے نے بولنا شروع کیاہے اور جب بچہ اپنا پہلا قدم خود زمین پر جماتا ہے تو ماں کی مُسرت اور شادمانی کی چیخیں پورے گھراورمحلے میں سُنائی دینے لگتی ہیں کہ آؤدیکھومیرا شہزادہ خود سے چَلنے لگا ہے۔ دوسری طرف یہی ماں جب بچہ چلتے چلتے گر جائے یاکوئی ہلکی سی چوٹ بھی آجائے تووہ رو رو کراپنا دامن اشکوں سے بھگو لیتی ہے۔ اُس چوٹ پر مرہم لگانے کے لئے ہزاروں دیسی ٹوٹکے آزماتی ہے۔ جب تک بچہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑانہ ہوجائے

 ماں کبھی حوصلہ نہیں ہارتی۔ اُس کا حوصلہ ہمیشہ بلند رہتا ہے کیونکہ اُس کا توکل خدا پر ہوتا ہے۔وہ ہمیشہ اپنے بچوں کی  کامیابی کے لئے دعا گورہتی ہے۔ ایک دِن ایک بچے نے  اپنی ماں سے پوچھا:جِن بچوں کی مائیں مر جاتی ہیں اُن بچوں کے لئے بعد میں دُعا کون کرتا ہے؟ بچے کی بات سُن کر ماں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔پھر ماں نے جواب دِیا کہ بیٹا جیسے دِریا میں سے اگر پانی خُشک ہو جائے تو ریت میں سے نمی کبھی ختم نہیں ہوتی اِسی طرح اگر ماں مر جائے تو ماں کی دُعاؤں کا اَثر ختم نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
 ماں کی ممتا اور اُس کی عظمت کو بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کر دینے کے مترادف ہے۔ ماں کی دْعا بخور کی مانند آسمان کے دریچوں کو چیرتی ہوئی خدا تک پہنچتی ہے۔ اِسی لئے تو کہتے ہیں۔ ”ماں کی دعاجنت کی ہوا۔“ایک بارکسی سے پو چھا گیا ماں کیا ہے؟اس پر جواب ملاکہ ماں محبت کا بہتا سمندر ہے، ماں اندھیرے میں اُجالاہے، ماں اُمیدمیں خوشی ہے، ماں موتیوں کی چھنکار ہے، ماں ایک مضبوط چٹان ہے، ماں سورج کی پہلی کرِن ہے، ماں چمکتا ستارہ ہے،  نیزالفاظ کم پڑگئے لیکن ماں کی ممتا کم نہ ہوئی۔کہتے ہیں کہ ”اِنسان اپنی پہلی محبت کو کبھی نہیں بھولتا“پتہ نہیں پھر سنگدل اور پتھر ذہن لوگ اپنی ماں کو کیسے رُسوا کر دیتے ہیں۔چونکہ محبت کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ محبت کا پہلاسبق ماں ہی پڑھاتی ہے۔دراصل حقیقی اور پُرخلوص محبت کے چشمے ماں کی گود سے ہی پھوٹتے ہیں۔ ماں کی محبت میں بڑی اپناہیت اور معصومیت پنہاں ہوتی ہے۔
ماں کی قدر کیا  ہے؟ اگر پوچھنی ہو تو اُن سے پوچھو جن کی ماں اِ س جہانِ فانی سے رحلت کر گئی ہو، اُن سے پوچھو جو ماں سے کُوسوں دور ہیں۔ جب بھی کوئی غم و پریشانی یا بیماری کی حالت میں ہوتا ہے تو اُس کے منہ سے ”ہائےماں“ کے الفاظ نکلتے ہیں۔ جن لبوں سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں۔ وہی ماں کی قدرو منزلت کو جانتے ہیں۔
اِس عظیم ہستی کے متعلق تحریر کرتے ہوئے الفاظ کم پڑجائیں گے۔ پھر بھی ماں کی محبت کے ایک لمحے کا قرض بھی ادا نہیں ہوسکتا۔
آج ماؤں کے عالمی دن پر یہی دْعا ہے کہ خدا ہم سب کی ماؤں کو ہمیشہ خوش اور آباد رکھے۔ آمین

 

Add new comment

4 + 11 =