ادب خزانہ

اردو ادب پر مبنی ایک ایساشاندار پروگرام ہے

آرٹ اور ادب کا انکھوا خاموشی اور تنہائی اور دھیمے پن کی شاخِ زرّیں سے پھوٹتا ہے اور ہر بڑی تخلیقی روایت کا ظہور فن کا رانہ ضبط اور ٹھہراو اور تحمل کی تہہ سے ہوتا ہے۔ایک بے قابو اور بے لگام معاشرے میں جو اپنی رفتار،اپنی آواز، اپنے اعصاب اور حواس کو سنبھالنے کی طاقت سے محروم ہوچکا ہو، آرٹ اور ادب ایک طرح کے دفاعی مورچے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

لیکن اس موضوع کے ساتھ،کچھ اور سوچنے سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی کوئی ادبی روایت انسان دشمن بھی ہوسکتی ہے؟اور کسی بھی زمانے یا زبان کا ادیب،انسان دوستی کے ایک گہرے احساس کے بغیر کیا اپنے حقیقی منصب کی ادائیگی دینے کا وسیلہ ہے۔“

ادب اور آرٹ  کی تمام اقسام،ہجوم کے سُر میں سُر ملانے سے نہیں بلکہ تخلیق کرنے والی روح کے سناٹے،اس کی مقدس تنہائی اور خاموشی کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ادیب کے لیے اس کی وضع کردہ یہ شبیہیں،عام انسانی مقدرات کی نقاب کشائی کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔وہ کسی طرح کے فکری،نظریاتی،سماجی،مذہبی جبر کی پرواہ کیے بغیر اپنے احساسات پروارد ہونے والی تخلیقی سچائیوں کو دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو عمومیت زدہ مسئلوں اور عامیانہ باتوں میں ضائع نہ کرے اور اپنی پوری توجہ ادب یا آرٹ پر مرکوز رکھے۔اپنی تخلیقی سرگرمی کا سودا نہ کرے اور ہر قیمت پر فن کی حرمت اور فن کی تشکیل کے عمل کی حفاظت کرے۔عام مقبولیت کے پھیر میں نہ پڑے۔ایسی باتیں نہ کہے جن کا مقصد سب کوخوش کرناہو۔اسے اپنی ترجیحات کاپتہ ہونا چاہیے۔روزمرہ کی سیاست اور سمجھوتوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت جب سچ کو خطرہ لاحق ہو،اس کی حفاظت کے لیے کھل کر سامنے آجانا چاہیے یا پھر اپنے اخلاقی ملال اور احتجاج کوسامنے لانے کا ایک طریقہ جو بظاہر تجریدی ہے،ایک لمبی گہری خاموشی کے طور پر رونما ہوتاہے

 بقول منیر نیازی

”اس کے بعد ایک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور!“ 

 سائنس و ٹیکنالوجی انسان کی زندگی آسان بناتی یا ہنر سیکھاتی ہے۔ جبکہ ادب (Literature) انسان کو ”انسان“ بناتا ہے۔ سائنس ایجادات کرتی ہے تو ادب ان کا بہتر استعمال سیکھاتا ہے۔ سائنس دکان کھولتی ہے تو ادب طرح طرح کی کہانیوں کے ذریعے انسان کو اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر کاروبار کرنے پر اکساتا ہے۔ سائنس اگر گاڑی بناتی ہے تو ادب بتاتا ہے کہ اس کا فلاں استعمال کرو، قانون کی پاسداری کرتے ہوئے چلاؤ اور دوسرے انسانوں کا خیال کرو۔ سائنس اچھی چیزیں بناتی ہے اور ادب اچھا معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ جس معاشرے میں سب کچھ ہو مگر ادب نہ ہو تو پھر وہاں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انسان سسک سسک کر مرتا ہے۔ معاشرے میں سائنس ہو نہ ہو لیکن اگر ادب سے لگاؤ موجود ہو تو اس معاشرے کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ دراصل ادب کا یہ بھی کمال ہے کہ وہ انسانوں میں ہمت پیدا کرتا ہے اور آگے سے آگے بڑھنے پر قائل کرتا رہتا ہے۔ یوں ذہن و کردار سازی ہوتی چلی جاتی ہے اور معاشرہ ترقی کی

منازل طے کرتا چلا جاتا ہے۔

 دراصل ادب انسان کے مزاج کو لطیف کرتا ہے، اس میں احساس پیدا کرتا ہے اور بعض دفعہ سوچ پر ہتھوڑے مار مار کر ضمیر کو جگاتا ہے

جس معاشرے میں ادب ردی سمجھا جائے۔ جہاں کتابوں کے بدلے ”سویاں“ لے لی جائیں اور قیمتی اوراق پر ”پکوڑے“ فروخت ہوں۔ جہاں ادب کو صرف بے فکرے لوگوں کا مشغلہ اور ادیب کو ”کام کا نہ کاج کا“ سمجھا جائے۔ جس معاشرے میں ادب کی اس حد تک بے ادبی کی جائے کہ کتابیں ہی ”فٹ پاتھ“ پر آ جائیں تو پھر اس معاشرے کو بھی فٹ پاتھ پر آنے (بھکاری بننے) سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ؎

 مزید پھر اس طرح کے معاشرے کا کیا حال ہوتا ہے؟

                                     ذرا سوچیئے گا

 

 

Add new comment

5 + 0 =

Please wait while the page is loading