عورت کی عظمت

عورت کائنات کا حسن ہے

عورت کی عظمت

 

جس طرح ہر دن کو منانے کا ایک مقصد اور پس منظر ہوتا ہے بالکل اسی طرح عورتوں کا عالمی دن منانے کا بھی ایک پس منظر ہے۔ اس دن نیو یارک کی ایک فیکٹری میں خواتین نے اپنے حقوق کے لیے سرمایہ داروں کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ پہلی بار اس دن کو منانے کا آغاز 1857 میں ہوا۔ پھر 8 مارچ 1913 میں یہ دن خواتین کے عالمی دن کی حیثیت اختیار کر گیا۔ عورت لفظ چار حروف سے مل کر بنا ہے۔ اگر ہم اس لفظ کے حروف پر غور کریں تو بہت سی حقیقتی سامنے آتی ہیں۔

 

ع سے عقلمند

عورت عقلمند ہوتی ہے

 

و سے وعدہ

عورت وعدہ خلافی نہیں کرتی

 

ر سے رتبہ

خدا نے عورت کو بلند رتبہ عطا کیا

 

ت سے تعمیر

عورت خاندان کو تعمیر کرتی ہے

 

عورت کیا ہے:

عورت کائنات کا حسن ہے۔ عورت کے بغیر کائنات کا وجود ناممکن سی بات ہے۔ عورت کے بغیر کائنات ادھوری ہے۔ عورت خدا کی بنائی ہوئی خوشی کا نام ہے۔ نیز زندگی کی ہر راہ کو عورت نے روشن کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق کا عمل عورت سے منسوب ہے۔ عورت ہی وہ واحد ہستی ہے جو خدا کے بعد تخلیق کے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ حتی کہ منصوبہ نجات میں بھی عورت کا اہم رول ہے۔  عورت کی کوکھ سے نبیوں، بشپوں، کاہنوں، منادوں اور بے شمار عظیم انسانوں نے جنم لیا۔

بائیبل مقدس کی پہلی کتاب یعنی تکوین کی کتاب میں پہلے مرد اور عورت کی کہانی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جس میں عورت کو زیادہ قصور وار پیش کیا گیا ہے حالانکہ حکم عدولی کا گناہ دونوں سے سرزد ہوا، اگر خدا کی نظر میں صرف عورت کی گنہگار ہوتی تو دونوں کو سزا نہ ملتی۔  مگر اس کے باوجود عورت کو ہی زیادہ قصور وار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غور طلب بات تو یہ ہے کہ اگر عورت اتنی ہی گنہگار ہوتی تو پھر خدا نجات دہندہ کا وعدہ عورت کی بجائے مرد سے پورا کرتا۔ اس لئے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کبھی عورت سے مایوس نہیں ہوا۔ عورت کا وجود تو باعث برکت ہے۔

عورت کے چار روپ ہوتے ہیں۔

بنے بہن تو حیا یے عورت

بنے بیٹی تو بقاء ہے عورت

بنے بیوی تو وفا ہے عورت

بنے ماں تو پناہ ہے عورت

ان تمام روپوں میں عورت خاندان کے لئے فضائل کا باعث ہوتی ہے۔ خاندان میں سب سے اہم رول ماں کا ہوتا ہے جو موت کے منہ سے گزر کر ایک نئی زندگی کو ہستی میں لاتی ہے۔ ماں کے بعد عورت کے روپ میں بہن ہے جو اپنے بھائیوں سے پیار کرتی ہے اور اگر انہیں پریشانی میں دیکھے تو تسلی دیتی ہے۔

عورت بیٹی کے روپ میں باپ کے لئے دوزخ سے نجات کا باعث ہوتی ہے۔ عورت بیوی بن کر گھر آباد کرتی ہے اور یہ حقیقت ہے کے کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ عورت کے بارے میں محققین کی رائے بھی بہت اعلیٰ ہے۔

Nepoleon once said:-

Give me good mothers and i shall give you a good nation.

نپولین نے یہ بھی کہا تھا:۔

کہ عورت کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہے جبکہ ایک مرد کی تعلیم صرف ایک فرد کی تعلیم ہے۔

لارڈ بائرن کہتا ہے:۔

عورت خوداری اور حیا کا مجسمہ ہے۔

منو شاستر نے کہا:۔

جہاں عورت کا احترام ہوتا ہے وہاں خدا بھی خوش ہوتا ہے۔

نیز یہ کہ:۔

 وجودِ زن سے ہے تصویر  کائنات میں رنگ

تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو ایسی کئی عورتوں کا زکر ہے جنہوں نے معاشرے کو سدھارنے کے لیے خاص کردار ادا کیا۔  عورت نے صرف تاریخ میں ہی اپنے آپ کو نہیں منوایا بلکہ آج بھی فولادی عزم کے ساتھ ہر شعبے میں اپنے کام اور کلام کے ساتھ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں اس کی تعمیروترقی میں اپنا رول بخوبی نبھا رہی ہے۔ گھر ہو یا دفتر، درسگاہ ہو یا عبادت گاہ، میدانِ سیاست ہو یا میدانِ جنگ عورت نے ہر جگہ اپنی قابلیت کے جوہر دکھائے ہیں۔ آج کی عورت نے اس بھید کو سمجھ لیا ہے کہ صرف پیدائشی عمل کے زریعے سے ہی وہ خدا کی معاون نہیں بلکہ وہ اپنی دوسری صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خدا کی معاون بن سکتی ہے۔

آج پوری دنیا عورتوں کے عالمی دن کو پر جوش طریقے سے مناتی ہے اور اس دن کو مناتے ہوئے خواتین کو چاہیے کے اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے معاشرے اور سماج میں ظلم اور نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور جہاں بھی ان کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے وہاں اپنے حق کا لوہا منوائیں، زندگی کے ہر پہلو میں اپنے حق کی جنگ کو جاری رکھیں۔ آج کے دور میں خواتین کو اپنے رویے کو بدلنے اور مثبت سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ خواتین کو چاہے کہ وہ احساسِ کمتری کے خول سے باہر نکل کر  اپنے آپ کو مردوں کے برابر معاشرے کا اہم اور لازمی عنصر سمجھیں۔ اپنے ارادوں میں مضبوط ہوں اور وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی قدروں کو جانیں۔ اگر خداوند یسوع کے دور میں دیکھا جائے تو تب بھی خواتین کے حقوق کی پامالی تھی۔ لیکن یسوع مسیح نے خواتین سے گفتگو کر کے، ان کو شفاء دے کر، کلوری کی واہ میں رونے والی عورتوں کو تسلی دے کر نیز اپنے کلام اور تمثیلوں کے زدیعے عورت کے مقام کو بلند مرتبہ عطا کیا۔

اس کے علاوہ یسوع مسیح کی پیدائش، تعلیم و تربیت، تبلیغ، دکھ، موت، صلیب کے ساتھ، قبر پر بیز جی اٹھنے کی گواہی میں بھی خواتین سب آگے تھیں۔ اس سے ثابت ہے کہ یسوع مسیح کے نزدیک عورت کا مقام کتنا بلند ہے نیز مسیحی تبلیغ عورت کے بغیر ناممکن ہے۔ عورتوں کو چاہیے کہ وہ مقدسہ مریم کو اپنے سامنے رکھیں اور مقدسہ مریم کی خوبیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے گھروں میں مسیحی موحول قائم کریں اور اس کا ثبوت اپنی عملی زندگی سے دیں۔

عورت اب آزاد ہو ہر سانس دہائی دے

زنجیروں کے کٹنے کی آواز سنائی دے

جاگتی عورت کی اب ہر پل گونج سنائی دے

عورت ہمت کر کے خود کو آپ رہائی دے

 

مس ثنا ء جارج (لاہور)

 

Add new comment

6 + 14 =

Please wait while the page is loading