وندنا

خدا ہم سے گہری محبت رکھتا ہے۔

 خدا ہم سے گہری محبت رکھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی راہنمائی سے فائدہ حاصل کریں۔ اگر ہماری عبادت اُس کی نظروں میں قابلِ قبول ہے تو ہم بہت سے مسائل میں پڑنے سے بچے رہیں گے اور ہمیں خوشی بھی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمیں خدا کی برکت اور مدد بھی حاصل ہوگی۔

 

خدا ہر شخص کو ہمیشہ کی زندگی پانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن فردوس میں ہمیشہ کی زندگی پانے کے لئے ہمیں خدا کی عبادت اُس کی مرضی کے مطابق کرنا ہوگی اور اُس کے معیاروں کے مطابق چلنا ہوگا۔ یسوع نے کہا: ”تنگ دروازہ سے داخل ہو۔کیونکہ چوڑا ہے وہ دروازہ اور  کشادہ ہے وہ راستہ جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے اور بہت ہیں جواُس سے داخل ہوتے ہیں۔ وہ دروازہ کیسا تنگ اور وہ راستہ سکڑا ہے جو حیات کو پہنچاتا ہے اور تھوڑے ہیں جو اْسے پاتے ہیں    “۔

جی ہاں،عبادت ہمیشہ کی زندگی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ  بے راہ روی ہلاکت کی طرف۔ خدا نہیں چاہتا کہ کوئی بھی انسان ہلاک ہو جائے اس لئے وہ ہر شخص کو اُس کے بارے میں سیکھنے کا موقع دے رہا ہے۔

 

 ”وہ راستہ جو زندگی تک پہنچاتا ہے“ ہمیں کیسے مل سکتا ہے؟ یسوع نے بتایاکہ سچے مذہب کی پہچان اُس کے اراکین کے چال چلن سے ہوتی ہے۔ اُس نے کہا: ”اُن کے پھلوں سے تُم اُن کو پہچان لو گے۔ ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ جب لوگ خدا کی مرضی کے مطابق اُس کی عبادت کرتے ہیں تو یہ اُن کی مذہبی تعلیمات اور اُن کے چال چلن سے ظاہر ہوتا ہے۔ کہ

  وہ صرف خدا کی عبادت کرتے اور اُس کے نام کی بڑائی کرتے ہیں

    وہ ایک دوسرے سے گہری محبت رکھتے ہیں

    وہ مانتے ہیں کہ یسوع مسیح کے وسیلے سے ہی انسانوں کو نجات حاصل ہوگی

    وہ شیطان کی دُنیا کے نہیں ہیں

    وہ خدا کی بادشاہت کی منادی کرتے ہیں

سچے مسیحی ایک دوسرے کے لئے گہری محبت رکھتے ہیں۔ یہ ایک ایسی محبت ہے جو نسلی، معاشرتی اور قومی دیواروں کو گِرا دیتی ہے۔ محبت اور اتحاد کی بنیاد پر مختلف قوموں کے اشخاص ایک ہی بھائی چارے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

زبور 27

: ”خُداوند میرا نور اور میری نجات ہے۔

مجھے کس کا ڈر ہے؟

 خُداوند میری زندگی کا حصن ہے۔

 مجھے کس کی ہیبت ہے؟

 جب شریر یعنی میرے م دشمن اور میرے مخالف

 میرا گوشت کھانے کو مجھ پر چڑھ آتے ہیں۔

 تو وہ ٹھوکر کھاتے اور گِر پڑتے ہیں۔

 اگرچہ میرے خلاف لشکر صف آراہو۔

تو بھی میرا دِلخوف نہ کھائے گا۔

 اگر چہ میری مخالفت میں جنگ برپا ہو۔

 تَو بھی مَیں خاطر جمع رہونگا۔

میری خُداوند سے ایک ہی درخواست ہے

یہی میری التماس ہے۔

کہ مَیں اپنی زندگی کے تمام ایام خُداوند کے گھر میں رہوں

 تاکہ میں خُداوند کی دلکشی محسوس کروں

  اور اُس کی ہیکل کو تاکتا رہوں۔

۔ کیونکہ مُصیبت کے دِن وہ مجھے اپنے خیمے میں چھپا لے گا۔

 وہ اپنے ڈیرے کے پردے میں مجھے  پوشیدہ رکھے گا۔

 وہ مجھے چٹان پر چڑھائے گا۔

پس۔ اب مَیں اپنے ارد گرد کے دُشمنوں پر

سرفراز کیا جاتا ہوں۔

اور مَیں اُس کے خیمہ میں خُوشی کی قربانیاں ذبح کرونگا۔

 میں گاؤنگااور خُداوند کی حمد سرائی کرُونگا۔

Add new comment

12 + 1 =

Please wait while the page is loading