پبلک سپیکنگ ۔عوامی خطابت

فادر قیصر فیروز، اسلم راوء اور شرکاء

                                           پبلک سپیکنگ ۔عوامی خطابت 

رابطہ منزل لاہور میں ٹرینینگ ڈیپارٹمنٹ میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا،جس کا مو ضوع ”عوامی خطابت کا ہْنر“تھا۔ اس ورکشاپ میں 40 سے زائد نوجوانوں، سسٹرز،برادرز اورسکول ٹیچرز نے شرکت کی۔اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو عوامی خطابت میں تربیت دینا تھا۔ جس کے لیے مختلف اقسام کی مشقیں کروائی گئی  اور  عوامی خطابت کے اصولوں پر روشنی ڈالی گئی۔

ورکشاپ کے پہلے حصے میں فادر قیصر فیروز(ڈائریکٹر۔رابطہ منزل) نے عوامی خطابت کی ضرورت، حقیقی معنی اور بنیادی پہلوو ں کو اْجاگر کیا اور شرکا ء کو عوامی خطابت میں مشکلات  اور اْن کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

فادر موصوف نے شرکا میں مختلف دلچسپ مشقیں کروائی اور بتایا کہ انسان  صرف 7 فیصدالفاظ سے سیکھتا ہے اور 38فیصد آواز سے جبکہ 55 فیصد انگ بولی سے سیکھتا ہے ۔

  فادر موصوف بڑے واضح انداز میں درج ذیل نقاط کو زیرِ بحث لائے۔

٭۔سننے والوں تک اپنی بات موثر طریقے سے پہنچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم آسان الفاظ استعمال کریں جن کو سمجھنا، اوریاد رکھنا آسان ہو۔

٭۔ اگر آ پ کسی چیز کے بارے میں بات کر نا چاہتے ہیں تو اس بات کو یقینی بنالیں کہ آپ متعلقہ مضمون کو جانتے ہیں۔ اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ گھر سے تیاری کر کے جائیں۔

٭۔اپنے سننے والوں (آوڈیئسن) کو جاننیے،کہ ان کی دلچسپی کیا ہے؟ ان کا پس منظر کیا ہے؟موقع کیا ہے؟اس سے آپ کو اپنی بات صحیح ڈگر پر رکھنے میں مدد ملے گی۔

٭۔ یک لہجہ بوریت پیدا کرتا ہے۔یکساں لہجے میں لوگوں سے یہ کہنا کہ آپ کو ان کے درمیان آ کر خوشی ہو رہی ہے،بے معنی ہے۔ آپ اپنی گفتگو کا لہجہ،زیر و بم، شدت،ہم آہنگی،درجہ اور تال کو بدلتے رہیں اور آپ یہ محسوس کریں گے کہ سننے والا آپ کے ایک ایک لفظ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

٭۔آنکھوں کا رابطہ اور چہرے کے تاثرات آپ کی تقریر کو موثر بناتے ہیں۔جبکہ تیور دکھانا،شانے جھٹکنا، احمقانہ ہنسی اور چونچلے کارگر نہیں ہو تے۔ اس بات کو یاد رکھیں کہ اگر بڑی بھیڑ ہے تو ہر کسی کو اپنی گفتگو میں شریک رکھنے کے لئے انھیں براہِ راست دیکھ کر بات کریں۔ نہ کہ اِدھر اْدھر دیکھ کر

٭۔جسمانی حرکات و سکنات،نقل و حرکت اور ہاتھوں کا استعمال آپ کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے آپ نے ایسے مقررین کو دیکھا ہے جن کی

اسٹیج پر موجودگی بہت شاندار ہو تی ہے۔اگر آپ کسی سیمینار میں خطاب کر رہے ہیں تو سب کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لیے چہل قدمی کر سکتے ہیں۔ اور تمام خاضرین پر برابر توجہ دے سکتے ہیں۔

٭۔ سادہ اور آسان الفاظ استعمال کریں۔

فادر موصوف نے ایک موثر مقرر بننے کے لیے اورشرمیلے پن کو دور کرنے کے لیے درج ذیل پہلووں پر روشنی ڈالی:

٭خود کو قبول کیجیئے،اپنی انفرادیت کو سراہیں۔

٭دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کریں۔

٭بولتے وقت اْن لوگوں کو زیادہ دیکھیں  جن کو آپ جانتے ہیں۔ اور جو آپ کے لیے خوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔

٭اپنے خول سے باہر آئیے، مختلف سماجی و مذہبی تقریبات میں شرکت کریں۔

٭عوام کے سامنے کھڑے ہونے کے انداز پر توجہ دیں اور اسکو بہتر بنائیں۔

فادر موصوف نے اپنی گفتگو کو مزید آسان،دلچسپ اورشرکا کو ذہن نشین کروانے کے لئے مختلف ویڈیوز اور سلائیڈز کا استعمال کیا جسے شرکاء نے خوب سراہا۔

پروگرام کے دوسرے حصے کا آغا ز ریڈیو، ڈرامہ اور فلم کی دنیا کی مایہ ناز شخصیت  جناب اسلم راؤ نے آواز کو بہتر اور موثر بنانے کی مختلف مشقیں کروانے سے کیا ۔جس کے ذریعے تمام شرکا ء نے آواز کے بنیادی اصولوں،مشقوں اور ضرورتوں کو نا صرف جانا بلکہ عملی طور پر انھیں انجام بھی دیا۔

نیز شرکا کو مختلف گرہوں میں تقسیم کیا گیا  اور ڈرامہ نگاری اور ڈائیلاگ کی ادائیگی)ڈلیوری)،شاعری اور موسیقی کی مختلف مشقیں کروائیں۔انہوں نے کہا کہ ایک براڈکاسٹر کے پاس لفظوں کی طاقت ہوتی ہے۔ اور براڈ کاسٹنگ ایک احساس ہے۔ اچھی گفتگو،اچھا اخلاق اور اچھے الفاظ ہی آپ کی پہچان بنیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ آرٹسٹ ایک فقیر ہوتا ہے او ر زندگیاں بدلنے کا آرٹ بھی اسی آرٹسٹ کے پاس ہوتا ہے۔اس لیے اگر یہ امنگ رکھتے ہیں کہ میں لوگوں کی زندگیاں بدلوں گا تو سب  سے پہلے اپنے اندر سیکھنے کی تڑپ اور امنگ پیدا کریں۔اور دوسری اس کی شرط یہ ہے کہ اپنے اخلاق کو بلند کریں اور اس فریضے کو حلیمی، سادگی اور محبت سے سرانجام دیں۔

بعد ازاں شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

Add new comment

1 + 0 =

Please wait while the page is loading